SOBER

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا بار بار ریسرچ کی طرف توجہ دلانا ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اجتماعی کوشش کر کے موجودہ اور آنے والی نسلوں کو ریسرچ کی طرف لائیں اور ایک ریسرچ کلچر پیدا کریں تاکہ ریسرچ کرنے والے نہ صرف عزت پائیں بلکہ ان کی پروڈکٹس۔ فرمولاز۔ تھیوریز کو قومی دھارے میں لاکر انقلابی اقدامات کیئے جا سکیں ۔ ۔
یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جن ملکوں نے ریسرچ کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا انھوں نے آئے روزنئی ایجادات، اختراعات وجود میں لاکر نئی ٹیکنالوجیز تیار کر لیں۔ پھر نہ صرف اپنے ملک میں اس کو پھیلایا بلکہ اس کو ایکسپورٹ کر کے وسیع پیمانے پر زرمبادلہ کمایا ۔ جس سے ان ملکوں میں معاشی ترقی ہوئی ۔ روزگار کے مواقع میسر آئے، نئی انڈسٹریز لگیں ، عوام کو بہتر سہولیات ملیں۔ معاشی ترقی سے جرائم میں کمی آئی۔ لوگوں کو سکون ملا جبکہ جن ملکوں نے اس ریسرچ کو نظر انداز کیا وہ وقت کے ساتھ نہ چل سکے اور پیچھے رہ گئے۔ ان کے عوام بنیادی ضرورتوں سے محروم رہ گئے ۔ بد قسمتی سے تمام اسلامی ملک پیچھے رہنے والوں میں شامل ہوگئے ۔
ان اسلامی ملکوں پر غور کیا جائے تو ان میں نماز۔ روزہ اور دیگر اسلامی عبادات کے حوالے سے خاص اہتمام موجود ہے ۔ عوام میں اسلامی اقدار کا اثر نمایاں نظر آتا ہے مگر قرآن مجید میں 52آیات میں خدا کی طرف سے ریسرچ کی طرف توجہ دلانے کا حکم ، ہدایت پر عمل کہیں بھی موجود نہیں ۔ خدا کے اس حکم کی نا فرمانی یا اس کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہمارے سامنے آچکا ہے ۔ تقریباً تمام اسلامی ملک غیروں کے زیر اثر آچکے ہیں۔ مالی اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے دوسروں کے
رحم و کرم پر ہیں ۔ یہاں تک کہ ان ملکوں میں حکومتوں کی تشکیل و تحلیل بھی غیروں کے ہاتھ میں آچکی ہے۔ ان کا مذہب پر عمل بھی غیروں کی اجازت اور ہدایت کے تابع آتا جا رہا ہے ۔ حکمرانوں کے اس عمل کے خلاف رد عمل کے طور پر اسلامی تحریکیں سر اٹھا رہی ہیں۔ جو حکمرانوں کے غیروں کے در پر جھکنے کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے تشدد کا راستہ اختیار کر چکی ہیں۔ اس سے دنیا بھر میں اسلامی تنظیموں کی دہشت گردی سے منسلک کر دیا گیا ہے جس سے اسلام کے حسین چہرے پر داغ پڑنے کا خطرہ ہے ۔ غیر مسلم اس کو اسلامی تعلیم کے ساتھ جوڑ کر اسلام کو ایک دہشت گرد مذہب کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ درج بالا تکلیف دہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ ضروری محسوس ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی دی ہوئی ہدایت و حکم کی طرف عوام کو لایا جائے۔ موجو د ہ اور آنے والی نسلوں کو اس طرف مائل کر کے ریسرچ کلچر پیدا کیا جائے۔
جب مسلمان قرآن کی ہدایت کے مطابق ریسرچ کی طرف آئیں گے تو اللہ تعالی بطور پھل ان کو ایجادات۔ دریافت۔ نئے فارمولے اور نئی اختراعات سے نوازے گا۔ جس کو بعد میں ٹیکنالوجی اور انڈسٹری میں بدل کر مالی ترقی اور علمی ترقی کی بنیاد بنایا جائے گا۔ علمی ترقی ہی ہماری امتِ مسلمہ کا مستقبل ہے ۔ اگر ہم مشترکہ کوشش سے علمی اور سائنسی ترقی حاصل کر لیتے ہیں تو پوری دنیا ایک بار پھر اُمت مسلمہ کو وہ مقام دے گی جس کی وہ حقدار ہے اور پھر غیر قومیں اسلام کی اہمیت کو جان کر اس کی طرف آئیں گی۔
سوبر سوسائٹی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ آئیے ہم سب مل کر ایک اجتماعی کوشش کر کے اپنی تمام نوجوان نسل کو علم اور ریسرچ کی صلاحیت سے مالا مال کر دیں۔ لہذا آپ زندگی کے کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ آپ سوبر کے پلیٹ فارم پر آسکتے ہیں۔ داے۔ درمے ۔۔۔ آپ کے تعاون اور کوشش کی سوبر کو ضرورت ہے۔